مصباح الدجیٰ یونیورسٹی

تعلیمات قرآن و اھل بیت علیہم السلام

Misbahudduja University

مصباح الدجیٰ یونیورسٹی

Misbahudduja University

مستند دینی تعلیم — گھر بیٹھے، آسان انداز میں

داخلہ کی آخری تاریخ: 31 مارچ 2026

داخلہ فارم
Admissions Open 2026

ان کورسز میں داخلہ جاری ہے

0
طلباء و طالبات
0
امتحانی مراکز
0
فاضل اساتذہ
0
ممالک میں موجودگی
Our Mission & Legacy

تاسیس اور اغراض و مقاصد

اس عظیم دینی درسگاہ کا قیام 15 شعبان المعظم 1425ھ (بمطابق 30 ستمبر 2004ء) کو عمل میں لایا گیا۔ اس کے قیام کا بنیادی مقصد تعلیماتِ قرآن اور اہل بیت علیہم السلام، بالخصوص ولایتِ امیرالمومنینؑ، عزاداریِ سید الشہداءؑ اور معرفتِ امام زمانہؑ کو گھر گھر پہنچانا ہے۔ ہمارا مشن مومنین کو زیورِ علم سے آراستہ کرنا ہے تاکہ وہ دنیا کے ہر پلیٹ فارم پر ملتِ تشیع کی بہترین اور مؤثر نمائندگی کر سکیں۔

شجرِ سایہ دار: جڑیں اور وسعت

مصباح الدجیٰ یونیورسٹی محض ایک "آن لائن ادارہ" نہیں ہے۔ ہمارا وجود ایک تناور درخت کی مانند ہے جس کی جڑیں پاکستان کے شہروں سے لے کر دور دراز دیہاتوں تک پیوست ہیں۔ ہمارا تاریخی پس منظر اور زمینی حقائق اس بات کے گواہ ہیں۔

سرحدوں سے ماورا: عالمی شناخت

الحمدللہ! ہمارا تعلیمی سفر صرف مقامی سطح تک محدود نہیں رہا۔ آج مصباح الدجیٰ کے 32 سے زائد ممالک میں موجود طلباء اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہم نے ٹیکنالوجی کے ذریعے علمِ دین کو عالمی افق پر متعارف کروایا ہے۔

Why Choose Us?

مصباح الدجیٰ ہی کیوں؟

جدید ٹیکنالوجی اور روایتی معیار کا حسین امتزاج

مصباح الدجیٰ یونیورسٹی کا لڑننگ مینجمنٹ سسٹم (LMS) دنیا کی جدید ترین یونیورسٹیز (جیسے ہارورڈ اور آکسفورڈ) کے معیار پر تیار کیا گیا ہے، جبکہ اس میں پڑھایا جانے والا تعلیمی مواد حوزہ علمیہ قم اور نجف کے مستند معیار کے مطابق ہے۔ یعنی اب آپ گھر بیٹھے جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے دینی علوم کے سرچشموں سے سیراب ہو سکتے ہیں۔

موبائل ایپ کی سہولت

اپنی مصروفیات کے ساتھ تعلیم جاری ক্ষমতায় رکھیں! ہماری جدید ایپلی کیشن کے ذریعے آپ اپنے موبائل، ٹیبلیٹ یا پی سی پر کسی بھی وقت لیکچرز سن سکتے ہیں اور امتحانات دے سکتے ہیں۔

ویڈیو دروس اور پریکٹیکل

صرف کتابی علم نہیں! ہمارے سسٹم میں تمام کتب کے ساتھ ساتھ ویڈیو دروس بھی موجود ہیں۔ مثلاً وضوء کا طریقہ صرف پڑھایا نہیں گیا بلکہ ویڈیو میں عملی طور پر کر کے دکھایا گیا ہے۔

اسناد اور تعلیمی دورے

کورس مکمل کرنے پر مستند سرٹیفکیٹ جاری کیا جاتا ہے۔ مزید برآں، نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلباء کو ایران اور عراق کا خصوصی تعلیمی دورہ کروایا جاتا ہے۔

اعلیٰ تعلیم کی بنیاد

یہ کورسز ان طلباء کے لیے ایک بہترین سیڑھی ہیں جو مستقبل میں مزید اعلیٰ دینی تعلیم کے لیے نجف اشرف یا قم المقدسہ جا کر تعلیم حاصل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

صرف پوزیشن ہولڈرز کے لیے

سفرِ عشق و آگاہی

یہ محض سیاحت نہیں، بلکہ معرفتِ امامؑ اور خود سازی کا ایک ذریعہ ہے۔ قم اور تہران کے اہم ترین تاریخی، علمی اور روحانی مراکز کا مطالعاتی دورہ۔

یہ خاص ٹور یونیورسٹی کے نمایاں طلباء (Top Students) کے لیے بطور انعام ترتیب دیا گیا ہے۔

زیاراتِ مقدسہ
علمی مراکز
علمی شخصیات
تاریخی مقامات
المصطفیٰ اوپن یونیورسٹی
مرکزِ علم

المصطفیٰ اوپن یونیورسٹی

قم المقدسہ

مدرسہ المہدی (فارسی سنٹر)
لسانیات

مدرسہ المہدی (فارسی سنٹر)

قم المقدسہ

مسجد مقدس جمکران
روحانیت

مسجد مقدس جمکران

قم المقدسہ

موسسہ بیان (سکلز)
مہارت

موسسہ بیان (سکلز)

قم المقدسہ

موسسہ کوتاہ مدت
تعلیمی دورہ

موسسہ کوتاہ مدت

قم المقدسہ

سرداب مقدس حرم معصومہؑ
زیارتِ خاص

سرداب مقدس حرم معصومہؑ

قم المقدسہ

ملاقات: آیت اللہ رمضانی
خصوصی نشست

ملاقات: آیت اللہ رمضانی

(سربراہ عالمی اہل بیت اسمبلی)

تہران

اہل بیت یونیورسٹی
اعلیٰ تعلیم

اہل بیت یونیورسٹی

تہران

تہران یونیورسٹی
تعلیمی دورہ

تہران یونیورسٹی

تہران

میلاد ٹاور
سیاحتی

میلاد ٹاور

تہران

Scholarly Endorsements

علمائے کرام کا اعتماد

علامہ محمد امین شہیدی

علامہ محمد امین شہیدی

سربراہ امتِ واحدہ پاکستان

ہم بحیثیتِ مسلمان اور شیعہ اپنے دین کے حوالے سے فہم، ادراک اور علم حاصل کرنے کے پابند ہیں۔ معرفت کے بغیر ہم ایک بہتر مسلمان بن ہی نہیں سکتے، اور جو امور اور جن موضوعات کی روزمرہ زندگی میں ہمیں ضرورت پڑتی ہے اُن کا سیکھنا ویسے بھی شرعاً واجب ہے۔ اسی طرح اخلاقیات کے حوالے سے بھی ہمیں علم ہونا چاہیے کہ ہماری روح اور فکر کی پرورش کیسے ہوگی، اپنی زندگی کن اخلاقیات کے مطابق گزارنی ہے اور کن چیزوں سے اجتناب کرنا ہے۔ ہماری روح کی تشنگی کو مٹانے کے لیے وہ کون سے امور ہیں جن کی طرف دین نے ہماری رہنمائی کی ہے۔ یہ وہ موضوعات ہیں جن کا جاننا ہر صاحبِ شعور مسلمان اور شیعہ پر فرض ہے۔ اس حوالے سے خوش قسمتی سے مصباح الدجی یونیورسٹی کو ایک امتیاز حاصل ہے کہ اس ادارے نے پاکستان میں مختلف کورسز کروائے، اور ان کورسز میں بہتر پوزیشن حاصل کرنے والے اسٹوڈنٹس کے لیے ایک معنوی سفر کا اہتمام کیا جاتا ہے، جس میں ان اسٹوڈنٹس کو ایران اور عراق لے جایا جاتا ہے، جہاں زیارات کے ساتھ ساتھ تعلیمی ورکشاپس کی صورت میں اُن کی تعلیمی تشنگی کو پورا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ایسی ہی ایک ورکشاپ میں مجھے بھی شرکت کا موقع ملا، جو ایران کے شہر قم المقدس میں منعقد ہوئی تھی۔ ہمارے نوجوان، چاہے وہ بچے ہوں یا بچیاں، اُن کے پاس ایک موقع ہے کہ وہ اس طرح کے اداروں سے، اور خصوصاً مصباح الدجی یونیورسٹی کے ورچوئل پروگرام سے استفادہ کر سکیں۔

Verified Endorsement
علامہ راجہ ناصر عباس جعفری

علامہ راجہ ناصر عباس جعفری

سربراہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان

ڈیجیٹل دور میں دینی تعلیم کو منظم، مستند اور عام فہم انداز میں پیش کرنا ایک بڑا چیلنج ہے۔ مصباح الدجیٰ یونیورسٹی نے یہ ذمہ داری احسن انداز میں نبھائی ہے۔ یہ پلیٹ فارم فکری بالیدگی، شعورِ ایمانی اور سماجی ذمہ داری پیدا کرنے میں مؤثر کردار ادا کر رہا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ایسے اداروں کا وجود قوم کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں ہے۔

Verified Endorsement
علامہ سید علی رضا رضوی

علامہ سید علی رضا رضوی

معروف مذہبی سکالر

مصباح الدجیٰ یونیورسٹی کا نصاب تحقیقی بنیادوں پر مرتب کیا گیا ہے۔ یہاں دینی تعلیم کو نہ افراط کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے اور نہ تفریط کے ساتھ۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ پلیٹ فارم علماء، خطباء اور عام مومنین سب کے لیے ایک متوازن اور قابلِ اعتماد علمی مرکز ہے۔ اس دور میں جہاں ہر طرف انتشار ہے، ایسے ادارے امید کی کرن ہیں۔

Verified Endorsement
Success Stories

طلباء کے تاثرات

محمد ثقلین

محمد ثقلین

لیکچرار بایو سائنسز، ہورائزن کالج چکوال

میرا نام محمد ثقلین ہے اور میں ہورائزن کالج چکوال میں بایو سائنسز کے شعبہ میں بطور لیکچرار خدمات سرانجام دے رہا ہوں۔

میرے والدین کی خواہش تھی کہ میں علمِ دین حاصل کروں، مگر زندگی کا سفر مجھے بایو سائنسز کی طرف لے آیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ علمِ دین کی ضرورت شدت اختیار کرتی گئی اور حق و باطل میں تمیز کا سوال ذہن میں گونجتا رہا۔ مسئلہ یہ تھا کہ جب ہمیں وقت ملتا، اس وقت مدارس میں اساتذہ دستیاب نہیں ہوتے تھے۔

اسی جستجو میں ایک دن مجھے یہ آیت سننے کو ملی: "لن تنالوا البر حتیٰ تنفقوا مما تحبون" — جو میرے لیے مشعلِ راہ بن گئی۔

اسی دوران مجھے مصباح الدجیٰ یونیورسٹی کے بارے میں علم ہوا۔ جب میں نے اس کے کورسز اپنے والد صاحب سے شیئر کیے تو یہ بات سامنے آئی کہ اس ادارے کا طرزِ تعلیم ہمارے بزرگ علماء کی روایت سے ہم آہنگ ہے اور ساتھ ہی عصرِ حاضر کی ضروریات کو بھی پورا کرتا ہے۔

یونیورسٹی کے کوآرڈینیٹرز سے رابطے کے بعد شوزیب علی صاحب نے داخلے سے لے کر دورانِ کورس ہر مرحلے پر میری بھرپور راہنمائی کی۔ کسی بھی وقت، 24 گھنٹوں میں، ان کی معاونت دستیاب رہی۔

مولانا صابر حسین صاحب کے لیکچرز اور قاری صاحب کی قرأت نے سلیبس کو نہایت مؤثر بنا دیا۔ مختصر وقت میں اتنا جامع مواد فراہم کیا جاتا ہے جو ایک عام طالب علم کو بھی بہترین مقرر بنا سکتا ہے۔

حدیث کی پرکھ، فلسفۂ انسان، معصومینؑ کی معرفت اور مکتبِ تشیع کا فہم — یہ سب کچھ مجھے اسی ادارے سے سیکھنے کو ملا۔ یہ ایک متوازن پلیٹ فارم ہے جو نہ انتہا پسندی کی طرف مائل ہے اور نہ تنگ نظری کی طرف۔

میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس ادارے کو ہمیشہ محفوظ رکھے، مزید ترقی عطا فرمائے اور اسے علومِ آلِ محمدؑ کے فروغ کا ذریعہ بنائے۔ آمین۔

پروفیسر محسن رضا علی

پروفیسر محسن رضا علی

انگلش پروفیسر، گورنمنٹ کالج آف کامرس ٹوبہ ٹیک سنگھ

میرا نام پروفیسر محسن رضا علی ہے۔ میں گورنمنٹ کالج آف کامرس ٹوبہ ٹیک سنگھ میں گزشتہ تقریباً 18 سال سے بطور انگلش پروفیسر اپنی خدمات سرانجام دے رہا ہوں۔ مصباح الدجیٰ یونیورسٹی کے کورس اسوسی ایٹ عالم میں میں نے لرننگ مینجمنٹ سسٹم کے ذریعے داخلہ حافظ امانت علی صاحب کے ساتھ لیا۔

۱) اس یونیورسٹی کا درس و تدریس انتہائی اچھا ہے۔ میں پہلے TOEFL بھی کر چکا ہوں اور مصباح الدجیٰ یونیورسٹی بالکل اسی معیار اور طریقے سے پڑھا رہی ہے۔

۲) یہاں Brainstorming Technique ہے جس میں سٹوڈنٹس کی زیادہ involvement ہوتی ہے۔

۳) AVA technique کے تحت جو آپ سنتے یا پڑھتے ہیں اس کی تصویر بھی دکھائی جاتی ہے۔

۴) کتب کے حوالے سے اصل صفحات دکھا کر حوالہ بولڈ اور ہائی لائٹ کر کے عربی متن پڑھایا جاتا ہے اور پھر ترجمہ کیا جاتا ہے، جس سے عبارت پڑھنے اور سمجھنے میں بہت فائدہ ہوتا ہے۔

۵) مشکل الفاظ و اصطلاحات سمجھانے کے لیے اردو کے ساتھ انگلش بھی استعمال کی جاتی ہے۔

۶) تجوید میں قواعد اور تلفظ کی اصلاح نہایت باریکی سے ہوتی ہے اور بہترین فیڈ بیک دیا جاتا ہے۔

۷) مصباح الدجیٰ یونیورسٹی میں کورس کو شارٹ اور مؤثر انداز میں پڑھایا جاتا ہے، جس سے دیگر مصروفیات کے ساتھ گھر بیٹھے اعلیٰ معیار کی دینی تعلیم حاصل ہو جاتی ہے۔

۸) وضوء کے درس میں عملی ویڈیوز دکھائی جاتی ہیں، جس سے سیکھنا آسان ہو جاتا ہے۔

۹) اساتذہ کا انداز بہت محبت بھرا ہے، سوالات کے جواب نہایت شفقت سے دیتے ہیں اور ہر مشکل میں مکمل رہنمائی کرتے ہیں۔

میری مصباح الدجیٰ سے یہی suggestion ہے کہ آپ اپنی ایڈورٹائزمنٹ کو بڑھائیں۔ جب مجھے اس کے بارے میں پتا چلا تو لگا کوئی عام شارٹ کورس ہوگا — لیکن یہ اتنا منفرد اور مضبوط ادارہ نکلا۔ میں نے اور حافظ امانت علی صاحب نے فیصلہ کر رکھا ہے کہ ہم عربی اور دیگر کورسز بھی مصباح الدجیٰ یونیورسٹی سے کریں گے۔

آخر میں میں اپنی قوم سے درخواست کروں گا کہ وقت کا تقاضہ یہی ہے کہ اپنے بچوں کو علم دین سکھایا جائے۔ خاص طور پر بیرون ملک مقیم لوگوں کے لیے یہ بہت بڑی نعمت ہے۔ والسلام

سیدہ تطہیر فاطمہ

سیدہ تطہیر فاطمہ

لیکچرار کیمسٹری، پشاور

السلام و علیکم، میرا نام سیدہ تطہیر فاطمہ ہے۔ میں پچھلے دو ماہ سے مصباح الدجیٰ یونیورسٹی کے آن لائن لرننگ مینجمنٹ سسٹم کے ذریعے اسوسی ایٹ عالمہ کورس میں enrolled ہوں۔

میں نے کراچی سے بایو کیمسٹری میں ماسٹر کیا، فرسٹ پوزیشن کے ساتھ Miracle Medicine میں MPhil کیا اور پھر میڈیکل یونیورسٹی میں بطور لیکچرار اپنی جاب سٹارٹ کی۔

اس دوران مجھے شدت سے احساس ہوا کہ دینی تعلیم پر ہمارا فوکس اس طرح نہیں ہے جس طرح ہونا چاہیے۔ میں نے گھر کے قریب ایک مدرسے میں چھ ماہ کے سرٹیفیکیٹ کورس میں داخلہ لیا اور اسے بھی فرسٹ پوزیشن کے ساتھ پاس کیا۔

میں اپنی دینی تعلیم مزید جاری رکھنا چاہتی تھی، لیکن ہماری فیملی کراچی سے پشاور منتقل ہو گئی۔ کراچی اور پشاور کے ماحول میں زمین آسمان کا فرق ہے — کراچی میں عزاداری سید الشہداءؑ اور مدارس کا اہتمام منظم انداز میں ہوتا ہے، جو پشاور میں اتنا نظر نہیں آتا۔

پشاور آ کر میں نے کالج میں کیمسٹری لیکچرار کے طور پر اپنا پروفیشنل کیریئر سٹارٹ کیا، مگر دینی تعلیم منقطع سی ہو گئی اور مجھے اس کا بہت افسوس تھا۔

اسی دوران میں نے فیس بک پر مصباح الدجیٰ یونیورسٹی کا ایڈ دیکھا — کہ یہ پہلی شیعہ یونیورسٹی ہے جو دنیا بھر میں مومنین و مومنات کو گھر بیٹھے دینی تعلیم فراہم کر رہی ہے۔ بہت nominal ممبرشپ کے ساتھ یہاں سے high standard اسلامی تعلیم حاصل کی جا سکتی ہے — یہ جان کر مجھے بہت خوشی ہوئی اور میں نے فوراً join کر لیا۔

الحمدللہ، یہاں ٹیچنگ کے ساتھ ساتھ میری دینی تعلیم بہت اچھے طریقے سے جاری ہے۔ پچھلے دنوں میں زیارات کے لیے عراق اور ایران گئی تھی — وہاں بھی یونیورسٹی کا آن لائن سسٹم efficiently کام کرتا رہا، لیکچرز سننے اور ٹیسٹ دینے میں کوئی difficulty نہیں ہوئی۔

میں مصباح الدجیٰ یونیورسٹی کی بہت شکر گزار ہوں کہ انہوں نے اتنی بہترین facility فراہم کی۔

آخر میں میرا پیغام یہ ہے کہ آپ زیادہ سے زیادہ مصباح الدجیٰ یونیورسٹی کا حصہ بنیں اور دینی تعلیم حاصل کریں۔ خود کو دینی تعلیم سے ہم آہنگ کریں — اسی سے ہم اپنی اور اپنی اولاد کی اصلاح کر سکتے ہیں اور امام زمانہؑ کے ظہور کی راہ ہموار کر سکتے ہیں۔

شان زہرا

شان زہرا

لیکچرار، محکمہ تعلیم پنجاب

السلام و علیکم، میرا نام شان زہرا ہے۔ پنجاب یونیورسٹی سے MSc Chemistry کرنے کے بعد اب میں پنجاب ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ میں تدریس کے فرائض انجام دے رہی ہوں۔

اس کے ساتھ ساتھ میں نے مصباح الدجیٰ یونیورسٹی کے لرننگ مینجمنٹ سسٹم کے ذریعے اسوسی ایٹ عالمہ کورس کیا ہے۔

دینی تعلیم کی طرف آنے کا میرا مقصد اپنے عقائد اور اعمال سے شک و شبہات کو دور کر کے یقین کی منزل حاصل کرنا تھا تاکہ روحانیت میں اضافہ ہو سکے۔

جب مجھے مجلس امام حسینؑ پڑھنے کا کہا گیا تو میں نے یہ فیصلہ کیا کہ کسی مستند ادارے سے کورس اور سرٹیفیکیٹ حاصل کیے بغیر ممبر حسینی پر نہیں جاؤں گی۔

مصباح الدجیٰ یونیورسٹی کے لیکچرز، نصاب کا انتخاب، امتحانی طریقہ کار اور طلبہ کو فیسلیٹیٹ کرنے کا انداز میری توقعات سے کہیں بڑھ کر تھا۔

یونیورسٹی کا بلند اخلاق اور طلبہ کی تجاویز کو اہمیت دینا مجھے بہت متاثر کر گیا۔

اگر آپ بھی دیگر مصروفیات کے ساتھ اعلیٰ دینی تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں تو میں مصباح الدجیٰ یونیورسٹی کی بھرپور سفارش کرتی ہوں۔

Masooma Hussain

Masooma Hussain

Associate Alima Student — UK

My name is Masooma Hussain. I am studying for the Associate Alima course at Misbah-Ud-Dujja University. I completed my M.A (Education) from Punjab University Lahore, Pakistan, before moving to the UK with my family. In the UK, I studied for a Diploma in Graphic Designing and also qualified with a Diploma in Social Media (Business).

Tilawat of Quran Majeed has always been a passion and a part of my daily routine. This led me to seek a deeper study and knowledge of Quran Majeed and Fiqah. I firmly believe that only the knowledge of religion can enable us to truly understand the philosophy of our earthly life. With this in mind, I took admission at Misbah-Ud-Dujja University.

I must say that learning here has given me everything I needed for a clear and genuine insight into our basic faith — reading Quran correctly, the Laws of Fiqah and Shariah, and much more. This university provides online education with outstanding facilities, particularly for those living abroad.

Having been a student at both Pakistani and foreign universities for many years — in regular as well as online modes — I can confidently say that Misbah-Ud-Dujja University is second to none among internationally recognised institutions practising online education.

This university caters for different age groups and gives due consideration to the needs and views of its students. Its primary aim is to ensure that every student benefits to the fullest extent possible. I, in my humble way, wish it all the very best and a most successful future as a shining star among the great educational institutions of our time.

Barjees Kosar

Barjees Kosar

Associate Alima Student — UK

My name is Barjees Kosar. I have been settled in the UK for the last 14 years. I hold Masters degrees in International Relations, General History and Law, and continued my studies even after relocating to the UK.

I have always aspired to complete the Alima Course and to attain a PhD level understanding of the teachings of Muhammad-o-Aal-e-Muhammad (PBUT). In pursuit of this goal, I chose Misbah-Ud-Dujja University, where I am currently enrolled in the Associate Alima course.

Misbah-Ud-Dujja University is the foremost university of Millat-e-Ja'afriyya, imparting the teachings of Muhammad-o-Aal-e-Muhammad to Momineen in remote areas of the world through its LMS — a highly modern and standardised learning system. The course syllabus is comprehensive and of excellent quality, drawing references from authentic books across all sects. Audio-video lectures are easily downloadable and can be printed as well. Best of all, the course can be managed comfortably alongside daily responsibilities.

The LMS system runs smoothly on all devices — Mobile, Computer, iPad, Tablet — and exams can be taken from the comfort of one's own home.

I sincerely request all Momineen brothers and sisters to join the university without delay and to further the blessed mission of Muhammad-o-Aal-e-Muhammad (PBUT).

Our Collaboration

Ahlebayt World Assembly
Almustafa International University
Ahlebayt International University
Almustafa Open University
واٹس ایپ پر بات کریں