ہمارے بارے میں

مصبَاحُ الدُّجیٰ یونیورسٹی اور عصرِ حاضر

مستقبل کے تعین کے لیے ضروری ہے کچھ سوالات اپنے آپ سے کیے جائیںاور پر تدبر اور تفکر کیا جائے۔ پاکستان میں ملت تشیع نے اب تک علوم محمد و آل محمد کی ترویج اور ترقی کے لیے کتنا کام کیا ہے اور ہماری ذمہ داریاں کیا ہونی چاہئیں تھیں ۔ ان سب باتوں پر غور کرنے کی ضرورت ہے!
ہ۔کیا ہم نے حضرت امام زمانہ (عج) علیہ السلام کے لیے تمام تیاریاں مکمل کر لی ہیں ؟

ہ۔کیا ہمارے علماء، واعظین اور ذاکرین خوشنودیٔ محمد و آل محمد ؑکے لیے سیرت چہاردہ معصومین کی ترویج کر رہے ہیں ؟

ہ۔کیا ہم نے اپنے گھروں کو اس قابل بنا لیا ہے کہ حجت خدا تشریف لا سکیں؟

ہ۔کیا ہمارے بچے قرآن مجید اور اابتدائی دینی معلومات مکتب تشیع سے لے رہے ہیں یا غیروں سے؟

ہ۔کیا ہماری زندگیا ں اقوال معصومین کا آئینہ ہیں ؟

ہ۔کیا ہماری تفاسیر، احادیث، فقہ اوراصول وغیرہ کی کتب کے تراجم آسان اردو زبان میں ہو چکے ہیں تاکہ عربی اور فارسی نہ جاننے والے مومنین و مومنات بھی ان سے استفادہ کر سکیں؟

ہ۔ کیا دشمنان آل محمد علمی میدان میں ہمارا مقابلہ کرنے سے خائف ہیں یا ہم ان کے تابع فرمان نظر آرہے ہیں؟

ہ۔کیا ہم زکوۃ اور خمس کی ادائیگی کر کے اپنے مال کو پاکیزہ بنا لیا ہے؟

ہ۔ ہم روزانہ چوبیس گھنٹوں میں تعلیمات چہاردہ معصومین کے لیے کتنا وقت نکالتے ہیں؟

ہ۔کیا حسینیت ؑ نے فلسفۂ موت و حیات کو ہم نے سمجھ لیا ہے؟

ہ۔کیا ہمارے دینی مدارس ملت جعفریہ کی مقامی مذہبی ضروریات پوری کر رہے ہیں اور مدارس کے روحانی اور پاکیزہ ماحول میں سے

ہ۔علوم محمد و آل محمد سے آراستہ ہو کر کتنے طلبہ و طالبات ہر سال فارغ التحصیل ہو رہے ہیں ؟

ہ۔ملت جعفریہ میں اتحاد و یگانگت کے لیے کیا کیا گیا ہے یا تقسیم در تقسیم کا عمل ابھی بھی جاری ہے؟

اس طرح کے بہت سے سوالات ذہن کو پریشان کر تے ہیں۔بلاشبہ قوم میں تعمیری کام تو ہوا ہے مگر ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ہماری بنیادی دینی معلومات کا تو یہ حال ہے کہ اگر پوچھا جائے کتب اربعہ کے نام کیا ہیں ؟شاید اکثریت بتانے سے قاصر ہو! حد تو یہ ہے کہ جس قوم کے 98 فیصد بچے اور بچیاں قرآن مجید اور مسائل دینیہ کی بنیادی تعلیم مکتب تشیع کے علاوہ غیروں سے حاصل کر رہے ہوں اور اکابرین قوم توقع کریں گے کہ یہی نسل بڑی ہو کر ملت جعفریہ کی ترجمانی کرے گی ۔ خواب نہیں تو کیا ہے!

کبھی کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دینی تعلیم صرف عزادار کی ہی ذمہ داری ہے وہ اپنے بچوں کو پیٹ کاٹ کر منہ مانگی رقم ادا کر کےمعصومین کی مجالس و محافلپرستی کا شکار ہو جائے تو عوام کا کیا بنے گا۔

لکھتا ہے ۔(Goeffrey Chaucer)جیفری چوسر

("If gold rusts,what shall iron do”)

” اگر سونے کو زنگ لگ جائے تو لوہا کیا کرے گا یعنی اگررہنما ہی مادیت پرستی کا شکار ہو جائے تو عوام کا کیا بنے گا۔

کیا ملت جعفریہ میں ایسا کوئی ادارہ نہیں ہونا چاہیے تھاجو خود بھی حضرت امام زمانہ کا منتظر بننے کے لیے کوشاں ہو اور ملت تشیع کے بچوں ،بچیوں اور مومنین و مومنات کو ان کے استقبال کے لیے تیار کرنا اپنا مقصد حیات سمجھے۔

الحمد للہ اس عظیم مقصد کے لیے مصبَاحُ الدُّجٰی یونیورسٹی کا قیام عمل میں لایا گیاہے۔ یہ جنوبی ایشیا میں اپنی نوعیت کی ملت جعفریہ کی واحد اسلامی فاصلاتی مذہبی تعلیمی دانشگاہ ہے ۔

جس کا باقاعدہ آغازقلعہ دیدار سنگھ ضلع گوجرانوالہ میں جنوری 2004سے کیا گیا۔مورخہ 8 جون 2007 ء سے نیاز بیگ( ٹھوکر ) لاہور میں اس کا مین کیمپس منتقل کر دیا گیاہے ۔اس میں پوری دنیا سے مؤمنین و مؤمنات داخلہ لے کر گھر بیٹھے ملت جعفریہ کی پاکستان اور بیرونی ممالک کی اعلیٰ مذہبی ڈگریاں حاصل کر رہے ہیں ۔

اگر آپ بھی داخلہ لینا چاہتے ہوں یا اپنی مسجدو امام بارگاہ میں یونیورسٹی کا سٹڈی سنٹر قائم کر کے اپنے بچوں اور بچیوں کو علوم محمد و آل محمدعلیھم السلام سے آراستہ کرنے کی خواہش رکھتے ہوں تو ہماری تدریسی و تبلیغی خدمات حاضر ہیں۔

قیام کا مقصد

ہ۔ہر گھر کی دہلیز تک علوم محمد ؐو آل محمدؑ پہنچانا خصوصاّ جوان نسل میں دینی آگاہی پیدا کرنا۔
ہ۔ وہ طالبات جو مڈل ، میٹرک ،ایف اے ،بی اے وغیرہ پاس کرنے کے بعد گھر میں فارغ ہیں انہیں گھر میں رہتے ہوئے اعلیٰ دینی تعلیم حاصل کرنے کی سہولت مہیا کرنا ۔
ہ۔ وہ مومنین و مومنات جو مجلس پڑھنے کا شوق رکھتے ہوں انہیں ا س کے لیے مواقع فراہم کرنا ۔

ہ۔عزاداری حضرت امام حسین علیہ السلام کے عظیم معنوی سرمایہ سے اپنے عقیدہ، ایمان اور تقویٰ کی حفاظت کرنا۔

ہ۔اتحاد بین المسلمین اور بین المذاہب مکالمہ سے دنیا میں امن و آشتی کے لئے کوشاں رہنا ۔

الغرض یونیورسٹی کی انتظامیہ خود بھی حضرت امام زمانہ کی منتظر بننے کی کوشاں ہے اور ملت تشیع کے بچوں ،بچیوں اور مومنین و مومنات کو ان کے استقبال کے لئے تیار کرنا اپنا مقصدحیات سمجھتی ہے ۔

امتیازی خصوصیات

ہ۔گھر بیٹھے تعلیم وتربیت کی سہولت اورآڈیو، سی ڈیز کا استعمال ۔

ہ۔واعظ تک تمام کورسز آسان اردو زبان میں ۔

ہ۔کتب کے ہدیہ کے علاوہ کسی قسم کی کوئی فیس نہیں ۔

ہ۔فاضل ایران کے کو رس کے لیے قم اور مشہد کے تعلیمی مراکز میں تعلیم وتربیت کا انتظام ۔

ہ۔تعلیمی اور تربیتی ورکشاپس میں علماء کرام اور معلمات کے لیکچرز کا اہتمام ۔

اعزازات

ہ۔نمایاں پوزیشن والے طلبہ وطالبات کو انعامات۔

ہ۔مومنات کوآرڈی نیٹرز کو رداء حضرت فاطمۃ الزہراء سلام اللہ علیھا کے عنوان سے ردائیں۔

ہ۔ہزاروںطلبہ وطالبات نے مختلف کورسز کا امتحا ن پاس کیا۔

ہ۔ طالبات کی ریگولر کلاس نے تعلیمی بورڈ سے فاضل عربی کا امتحان پاس کیا۔

ہ۔مختلف امام بارگاہوں اور مساجد میں سٹڈی سنٹر زکا قیام ۔

سٹڈی سنٹر

پاکستان اور بیرون ممالک مختلف شہروں میں جہاں مسجد ، امام بارگاہ اور باقاعدہ محرم الحرام کی مجالس کا انعقاد کیا جاتا ہو وہاں سٹڈی سنٹر کا انعقاد کیا جا سکتا ہے ۔ایک شہر میں ایک سے زیادہ سٹڈی سنٹر ز بھی بنائے جا سکتے ہیں۔ سنٹر کی انتظامیہ پانچ اراکین پر مشتمل ہے: کوآرڈی نیٹر ، ڈپٹی کو آرڈی نیٹر ،پیش نماز اور دو اساتذہ (بہتر ہے ایک مومنہ ہو تاکہ طالبات کے مسائل احسن طریقہ سے حل ہو سکیں

علماء کونسل

جامعہ کے تعلیمی ،تبلیغی اور اشاعتی پروگرامز میں مشاورت کے لئے ہر ضلع میںعلماء کی ایک کونسل تشکیل دی گئی ہے۔ جو بہتر کارکردگی کے لئے تجاویز مرتب کرے گی اور امتحانات کے انعقاد میں جامعہ کی معاونت کرے گی۔

مجلس مشاورت

اکابرین شیعہ ،ماہرین تعلیم ،وکلاء اور دیگر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی ایک مجلس تشکیل دی گئی ہے ۔جو جامعہ کی نمایاں کارکردگی اور تعلیمات محمد و آل محمد ؑ کو ہر گھر تک پہنچانے میں جامعہ کی مشاورت کرے گی۔

top
Copyright © 2004-2017. All right Reserved Misbahudduja University