مصباح الدجیٰ یونیورسٹی
تعلیمات قرآن و اھل بیت علیہم السلام
Misbahudduja University
Islamic Education At Your Doorstep
تعلیمات قرآن و اھل بیت علیہم السلام
Islamic Education At Your Doorstep
Misbah-ud-Duja University
مستند دینی تعلیم — گھر بیٹھے، آسان انداز میں
باقی وقت:
ہم بحیثیتِ مسلمان اور شیعہ اپنے دین کے حوالے سے فہم، ادراک اور علم حاصل کرنے کے پابند ہیں۔ معرفت کے بغیر ہم ایک بہتر مسلمان بن ہی نہیں سکتے، اور جو امور اور جن موضوعات کی روزمرہ زندگی میں ہمیں ضرورت پڑتی ہے اُن کا سیکھنا ویسے بھی شرعاً واجب ہے۔ اسی طرح اخلاقیات کے حوالے سے بھی ہمیں علم ہونا چاہیے کہ ہماری روح اور فکر کی پرورش کیسے ہوگی، اپنی زندگی کن اخلاقیات کے مطابق گزارنی ہے اور کن چیزوں سے اجتناب کرنا ہے۔ ہماری روح کی تشنگی کو مٹانے کے لیے وہ کون سے امور ہیں جن کی طرف دین نے ہماری رہنمائی کی ہے۔ یہ وہ موضوعات ہیں جن کا جاننا ہر صاحبِ شعور مسلمان اور شیعہ پر فرض ہے۔ اس حوالے سے خوش قسمتی سے مصباح الدجی یونیورسٹی کو ایک امتیاز حاصل ہے کہ اس ادارے نے پاکستان میں مختلف کورسز کروائے، اور ان کورسز میں بہتر پوزیشن حاصل کرنے والے اسٹوڈنٹس کے لیے ایک معنوی سفر کا اہتمام کیا جاتا ہے، جس میں ان اسٹوڈنٹس کو ایران اور عراق لے جایا جاتا ہے، جہاں زیارات کے ساتھ ساتھ تعلیمی ورکشاپس کی صورت میں اُن کی تعلیمی تشنگی کو پورا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ایسی ہی ایک ورکشاپ میں مجھے بھی شرکت کا موقع ملا، جو ایران کے شہر قم المقدس میں منعقد ہوئی تھی۔ ہمارے نوجوان، چاہے وہ بچے ہوں یا بچیاں، اُن کے پاس ایک موقع ہے کہ وہ اس طرح کے اداروں سے، اور خصوصاً مصباح الدجی یونیورسٹی کے ورچوئل پروگرام سے استفادہ کر سکیں۔
ڈیجیٹل دور میں دینی تعلیم کو منظم، مستند اور عام فہم انداز میں پیش کرنا ایک بڑا چیلنج ہے۔ مصباح الدجیٰ یونیورسٹی نے یہ ذمہ داری احسن انداز میں نبھائی ہے۔ یہ پلیٹ فارم فکری بالیدگی، شعورِ ایمانی اور سماجی ذمہ داری پیدا کرنے میں مؤثر کردار ادا کر رہا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ایسے اداروں کا وجود قوم کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں ہے۔
مصباح الدجیٰ یونیورسٹی کا نصاب تحقیقی بنیادوں پر مرتب کیا گیا ہے۔ یہاں دینی تعلیم کو نہ افراط کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے اور نہ تفریط کے ساتھ۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ پلیٹ فارم علماء، خطباء اور عام مومنین سب کے لیے ایک متوازن اور قابلِ اعتماد علمی مرکز ہے۔ اس دور میں جہاں ہر طرف انتشار ہے، ایسے ادارے امید کی کرن ہیں۔
یونیورسٹی پروفیسر
میرا نام محمد ثقلین ہے اور میں ہورائزن کالج چکوال میں بایو سائنسز کے شعبہ میں بطور لیکچرار خدمات سرانجام دے رہا ہوں۔ میرے والدین کی خواہش تھی کہ میں علمِ دین حاصل کروں، مگر زندگی کا سفر مجھے بایو سائنسز کی طرف لے آیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ علمِ دین کی ضرورت شدت اختیار کرتی گئی اور حق و باطل میں تمیز کا سوال ذہن میں گونجتا رہا۔ مسئلہ یہ تھا کہ جب ہمیں وقت ملتا، اس وقت مدارس میں اساتذہ دستیاب نہیں ہوتے تھے۔ اسی جستجو میں ایک دن مجھے یہ آیت سننے کو ملی: “لن تنالوا البر حتیٰ تنفقوا مما تحبون” جو میرے لیے مشعلِ راہ بن گئی۔ اسی دوران مجھے مصباح الدجیٰ یونیورسٹی کے بارے میں علم ہوا۔ جب میں نے اس کے کورسز اپنے والد صاحب سے شیئر کیے تو یہ بات سامنے آئی کہ اس ادارے کا طرزِ تعلیم ہمارے بزرگ علماء کی روایت سے ہم آہنگ ہے اور ساتھ ہی عصرِ حاضر کی ضروریات کو بھی پورا کرتا ہے۔ یونیورسٹی کے کوآرڈینیٹرز سے رابطے کے بعد شوزیب علی صاحب نے داخلے سے لے کر دورانِ کورس ہر مرحلے پر میری بھرپور راہنمائی کی۔ کسی بھی وقت، 24 گھنٹوں میں، ان کی معاونت دستیاب رہی۔ مولانا صابر حسین صاحب کے لیکچرز اور قاری صاحب کی قرأت نے سلیبس کو نہایت مؤثر بنا دیا۔ مختصر وقت میں اتنا جامع مواد فراہم کیا جاتا ہے جو ایک عام طالب علم کو بھی بہترین مقرر بنا سکتا ہے۔ حدیث کی پرکھ، فلسفۂ انسان، معصومینؑ کی معرفت اور مکتبِ تشیع کا فہم — یہ سب کچھ مجھے اسی ادارے سے سیکھنے کو ملا۔ یہ ایک متوازن پلیٹ فارم ہے جو نہ انتہا پسندی کی طرف مائل ہے اور نہ تنگ نظری کی طرف۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس ادارے کو ہمیشہ محفوظ رکھے، مزید ترقی عطا فرمائے اور اسے علومِ آلِ محمدؑ کے فروغ کا ذریعہ بنائے۔ آمین۔
یونیورسٹی پروفیسر
میرا نام پروفیسر محسن رضا علی ہے۔ میں گورنمنٹ کالج آف کامرس ٹوبہ ٹیک سنگھ میں گزشتہ تقریباً 18 سال سے بطور انگلش پروفیسر اپنی خدمات سرانجام دے رہا ہوں۔ مصباح الدجیٰ یونیورسٹی کے کورس اسوسی ایٹ عالم میں میں نے لرننگ مینجمنٹ سسٹم کے ذریعے داخلہ حافظ امانت علی صاحب کے ساتھ لیا۔ 1) اس یونیورسٹی کا درس و تدریس انتہائی اچھا ہے۔ میں پہلے TOEFL بھی کر چکا ہوں اور مصباح الدجیٰ یونیورسٹی بالکل اسی معیار اور طریقے سے پڑھا رہی ہے۔ 2) یہاں Brainstorming Technique ہے جس میں سٹوڈنٹس کی زیادہ involvement ہوتی ہے۔ 3) AVA technique کے تحت جو آپ سنتے یا پڑھتے ہیں اس کی تصویر بھی دکھائی جاتی ہے۔ 4) کتب کے حوالے سے اصل صفحات دکھا کر حوالہ بولڈ اور ہائی لائٹ کر کے عربی متن پڑھایا جاتا ہے اور پھر ترجمہ کیا جاتا ہے، جس سے عبارت پڑھنے اور سمجھنے میں بہت فائدہ ہوتا ہے۔ 5) مشکل الفاظ و اصطلاحات سمجھانے کے لیے اردو کے ساتھ انگلش بھی استعمال کی جاتی ہے۔ 6) تجوید میں قواعد اور تلفظ کی اصلاح نہایت باریکی سے ہوتی ہے اور بہترین فیڈ بیک دیا جاتا ہے۔ 7) مصباح الدجیٰ یونیورسٹی میں کورس کو شارٹ اور مؤثر انداز میں پڑھایا جاتا ہے، جس سے دیگر مصروفیات کے ساتھ گھر بیٹھے اعلیٰ معیار کی دینی تعلیم حاصل ہو جاتی ہے۔ 8) وضوء کے درس میں عملی ویڈیوز دکھائی جاتی ہیں، جس سے سیکھنا آسان ہو جاتا ہے۔ 9) اساتذہ کا انداز بہت محبت بھرا ہے، سوالات کے جواب نہایت شفقت سے دیتے ہیں اور ہر مشکل میں مکمل رہنمائی کرتے ہیں۔ میری مصباح الدجیٰ سے یہی suggestion ہے کہ آپ اپنی ایڈورٹائزمنٹ کو بڑھائیں، کیونکہ بہت سے لوگ اس بہترین نظام سے لاعلم ہیں۔ میں نے اور حافظ امانت علی صاحب نے یہ فیصلہ کر رکھا ہے کہ ہم عربی اور دیگر کورسز بھی مصباح الدجیٰ یونیورسٹی سے کریں گے۔ آخر میں میں اپنی قوم سے درخواست کروں گا کہ وقت کا تقاضہ یہی ہے کہ اپنے بچوں کو علم دین سکھایا جائے، خاص طور پر بیرون ملک مقیم لوگوں کے لیے یہ بہت بڑی نعمت ہے۔ والسلام
یونیورسٹی پروفیسر
السلام و علیکم، میرا نام سیدہ تطہیر فاطمہ ہے۔ میں پچھلے دو ماہ سے مصباح الدجیٰ یونیورسٹی کے آن لائن لرننگ مینجمنٹ سسٹم کے ذریعے اسوسی ایٹ عالمہ کورس میں enrolled ہوں۔ میں نے کراچی سے بایو کیمسٹری میں ماسٹر کیا، فرسٹ پوزیشن کے ساتھ Miracle Medicine میں MPhil کیا اور پھر میڈیکل یونیورسٹی میں بطور لیکچرار اپنی جاب سٹارٹ کی۔ اس دوران مجھے شدت سے احساس ہوا کہ دینی تعلیم پر ہمارا فوکس اس طرح نہیں ہے جس طرح ہونا چاہیے۔ میں نے گھر کے قریب ایک مدرسے میں چھ ماہ کے سرٹیفیکیٹ کورس میں داخلہ لیا اور اسے بھی فرسٹ پوزیشن کے ساتھ پاس کیا۔ میں اپنی دینی تعلیم مزید جاری رکھنا چاہتی تھی، لیکن ہماری فیملی کراچی سے پشاور منتقل ہو گئی۔ کراچی اور پشاور کے ماحول میں زمین آسمان کا فرق ہے—کراچی میں عزاداری سید الشہداءؑ اور مدارس کا اہتمام منظم انداز میں ہوتا ہے، جو پشاور میں اتنا نظر نہیں آتا۔ پشاور آ کر میں نے کالج میں کیمسٹری لیکچرار کے طور پر اپنا پروفیشنل کیریئر سٹارٹ کیا، مگر دینی تعلیم منقطع سی ہو گئی اور مجھے اس کا بہت افسوس تھا۔ اسی دوران میں نے فیس بک پر مصباح الدجیٰ یونیورسٹی کا ایڈ دیکھا کہ یہ پہلی شیعہ یونیورسٹی ہے جو دنیا بھر میں مومنین و مومنات کو گھر بیٹھے دینی تعلیم فراہم کر رہی ہے۔ بہت nominal ممبرشپ کے ساتھ یہاں سے high standard اسلامی تعلیم حاصل کی جا سکتی ہے—یہ جان کر مجھے بہت خوشی ہوئی اور میں نے فوراً join کر لیا۔ الحمدللہ، یہاں ٹیچنگ کے ساتھ ساتھ میری دینی تعلیم بہت اچھے طریقے سے جاری ہے۔ پچھلے دنوں میں زیارات کے لیے عراق اور ایران گئی تھی، وہاں بھی یونیورسٹی کا آن لائن سسٹم efficiently کام کرتا رہا، جس کی وجہ سے لیکچرز سننے اور ٹیسٹ دینے میں مجھے کوئی difficulty نہیں ہوئی۔ میں مصباح الدجیٰ یونیورسٹی کی بہت شکر گزار ہوں کہ انہوں نے اتنی بہترین facility فراہم کی جس کے ذریعے ہم اپنی دینی تعلیم حاصل کر سکتے ہیں۔ آخر میں میرا پیغام یہ ہے کہ آپ زیادہ سے زیادہ مصباح الدجیٰ یونیورسٹی کا حصہ بنیں اور دینی تعلیم حاصل کریں۔ وقت کا تقاضہ یہی ہے کہ ہم خود کو دینی تعلیم سے ہم آہنگ کریں—اسی سے ہم اپنی اور اپنی اولاد کی اصلاح کر سکتے ہیں اور امام زمانہؑ کے ظہور کی راہ ہموار کر سکتے ہیں۔
پروفیسر
السلام و علیکم، میرا نام شان زہرا ہے۔ پنجاب یونیورسٹی سے MSC Chemistry کرنے کے بعد اب میں پنجاب ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ میں تدریس کے فرائض انجام دے رہی ہوں۔ اس کے ساتھ ساتھ میں نے مصباح الدجیٰ یونیورسٹی کے لرننگ مینجمنٹ سسٹم کے ذریعے اسوسی ایٹ عالمہ کورس کیا ہے۔ دینی تعلیم کی طرف آنے کا میرا مقصد اپنے عقائد اور اعمال سے شک و شبہات کو دور کر کے یقین کی منزل حاصل کرنا تھا تاکہ روحانیت میں اضافہ ہو سکے۔ جب مجھے مجلس امام حسینؑ پڑھنے کا کہا گیا تو میں نے یہ فیصلہ کیا کہ کسی مستند ادارے سے کورس اور سرٹیفیکیٹ حاصل کیے بغیر ممبر حسینی پر نہیں جاؤں گی۔ مصباح الدجیٰ یونیورسٹی کے لیکچرز، نصاب کا انتخاب، امتحانی طریقہ کار اور طلبہ کو فیسلیٹیٹ کرنے کا انداز میری توقعات سے کہیں بڑھ کر تھا۔ یونیورسٹی کا بلند اخلاق اور طلبہ کی تجاویز کو اہمیت دینا مجھے بہت متاثر کر گیا۔ اگر آپ بھی دیگر مصروفیات کے ساتھ اعلیٰ دینی تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں تو میں مصباح الدجیٰ یونیورسٹی کی بھرپور سفارش کرتی ہوں۔
نجفِ اشرف، کربلا معلیٰ، کاظمین، سامرہ اور مشہدِ مقدس جیسے اہم مزارات۔ زیارت کے ساتھ علمی نشستیں اور تربیتی ورکشاپس بھی شامل۔